پیر 26 اکتوبر 2026 - 17:02
ایمان، وحدت اور رہبر انقلاب کی اطاعت ایران کی طاقت کی بنیاد ہے

حوزہ/ قم المقدسہ میں’’ایران؛ دنیا کی پہلی طاقت، الٰہی اصولوں کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر پانچویں نشست میں مقررین نے قرآن مجید کی تعلیمات، اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کی روشنی میں ایران کی طاقت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی قوت کا اندازہ صرف فوجی سازوسامان اور معاشی وسائل سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ ایمان، عوامی اتحاد، ثابت قدمی اور الٰہی وعدوں پر یقین بھی طاقت کے اہم عوامل ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں’’ایران؛ دنیا کی پہلی طاقت، الٰہی اصولوں کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر پانچویں نشست میں مقررین نے قرآن مجید کی تعلیمات، اسلامی تاریخ اور موجودہ عالمی حالات کی روشنی میں ایران کی طاقت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی قوت کا اندازہ صرف فوجی سازوسامان اور معاشی وسائل سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ ایمان، عوامی اتحاد، ثابت قدمی اور الٰہی وعدوں پر یقین بھی طاقت کے اہم عوامل ہیں۔

"ایران؛ دنیا کی پہلی طاقت، الٰہی اصولوں کی روشنی میں" عنوان سے منعقدہ اس نشست میں حجت الاسلام والمسلمین مجتبیٰ کلباسی، نجف لکزائی اور مہدی رستمنژاد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے قرآن مجید کی آیات اور تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی موجودہ صورت حال اور امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں اس کی مزاحمت پر گفتگو کی۔

ایمان، وحدت اور رہبر انقلاب کی اطاعت ایران کی طاقت کی بنیاد ہے

حجت الاسلام والمسلمین مجتبیٰ کلباسی نے کہا کہ قرآن مجید میں کامیابی اور غلبے کے لیے ایمان اور الٰہی احکام پر عمل کرنے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے سورۂ آل عمران کی آیت ’’وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی برتری کا تعلق ایمان سے ہے۔ ان کے مطابق برتری کی ایک شکل وہ ہے جو حق اور انصاف پر قائم ہو، جبکہ دوسری شکل ظلم، دوسروں کو کمزور کرنے اور ان پر تسلط جمانے سے پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدا کی مدد کا وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو حق کے راستے پر ثابت قدم رہتے اور انصاف کے قیام کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صہیونی حکومت کے ظلم کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس راستے میں شہید رہبر، کمانڈروں اور بچوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الٰہی وعدوں پر یقین، صبر اور ثابت قدمی اس جدوجہد کے اہم پہلو ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین کلباسی نے صفوی دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی تاریخ میں مذہبی عقائد اور ان پر عمل کے ملک کی قوت پر اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بھی صبر، مزاحمت، اتحاد اور رہبر کی پیروی کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔

ایمان، وحدت اور رہبر انقلاب کی اطاعت ایران کی طاقت کی بنیاد ہے

نشست کے دوسرے مقرر حجت الاسلام والمسلمین نجف لکزائی نے ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقت کو صرف مادی وسائل کے پیمانے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی رہی ہے اور امریکہ نے مختلف ادوار میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے 28 مرداد 1332 ہجری شمسی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کا سلسلہ انقلاب اسلامی کے بعد بھی جاری رہا۔ ان کے مطابق 12 روزہ اور 39 روزہ جنگوں کے تجربات نے ایران کی مزاحمت اور اس کی صلاحیتوں سے متعلق کئی سوالات کو نمایاں کیا۔

حجت الاسلام والمسلمین لکزائی نے قرآن مجید کی آیت ’’أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی قوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے اور اسی لیے طاقت کا جائزہ لیتے وقت مادی وسائل کے ساتھ معنوی پہلوؤں کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احزاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں تعداد اور ظاہری وسائل کی کمی کے باوجود مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے مغربی مفکرین میشل فوکو اور جوزف نای کا ذکر کرتے ہوئے انقلاب اسلامی کی معنوی قوت اور عوامی اثرات کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق ایمان، نظریاتی وابستگی اور عوامی حمایت ایسے عوامل ہیں جنہیں کسی ملک کی طاقت کا جائزہ لیتے وقت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایمان، وحدت اور رہبر انقلاب کی اطاعت ایران کی طاقت کی بنیاد ہے

تیسرے مقرر حجت الاسلام والمسلمین مہدی رستم نژاد نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں حق و باطل کی کشمکش کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ولایت اور رہبر انقلاب کی پیروی کو اجتماعی کامیابی کے اہم عوامل میں شمار کرتے ہوئے جنگ احد کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس واقعے میں مسلمانوں کو اختلاف، حکم کی نافرمانی اور باہمی کمزوری کے باعث نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورت حال کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق داخلی اتحاد، عوام کی بیداری اور رہبری کی ہدایات پر عمل درآمد اس لیے اہم ہیں کہ ملک کی صلاحیتوں کو عملی کامیابی میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے اندرونی اختلافات اور نفوذ کے خطرات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

نشست کے مقررین کی گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایران کی طاقت کا جائزہ صرف فوجی اور معاشی وسائل کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایمان، عوامی اتحاد، رہبر کی پیروی، صبر اور مزاحمت بھی قومی قوت کے اہم عوامل ہیں۔ مقررین نے قرآن مجید کی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کے واقعات کی روشنی میں کہا کہ ان اصولوں پر توجہ دینا موجودہ حالات میں ایران کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha